کیا زمانہ آ گیا ہے،اب خدا کی عبادت مسجد، مندر یا گرجے میں نہیں کی جاتی، بلکہ دولت کے انبار،پر تعیش لباس ،رہن سہن ،چمکتی گاڑیوں اور کروفر کے ذریعے کی جاتی ہے۔ ایمان؟ وہ صرف نصاب کا حصہ بن کر رہ گیا ہے، اخلاق؟ یہ صرف تقریری مقابلوں کا دھواں دھار موضوع ہے، اور ضمیر؟ اُسے ہم نے کب کا لمبی رخصت پر روانہ کر دیا ہے اور وہ صرف کچھ پرانے، فرسودہ الفاظ میں مقید ہے۔

خوش آمدید اُس معاشرے میں، جہاں کامیابی کی واحد نشانی دولت کی لاٹ ہے، چاہے چوری کی ہو، رشوت کی ہو یا کسی کی لاش پر کھڑی ہو۔ ہم اب صرف ان لوگوں کو عقیدت بھرا سلام پیش کرتے ہیں، جو اصول توڑ کر امارت کے ڈھیر پر کھڑے ہوں اور اُن بیچاروں کا تمسخر اڑاتے ہیں، جو اصولوں کے کانٹوں پر چل کر بھوکے و لہولہان ہو گئے ہیں۔

یہاں دین و دنیا کا سودا آسان ہے،بس قیمت اچھی لگنی چاہیے، ایمان بیچنا ہو تو بولی لگتی ہے: “کون دے گا زیادہ؟”۔ سچ بولنے والے “نادان” کہلاتے ہیں ،جھوٹ بول کر فائدہ اٹھانے والے “چالاک ” اور غریب آدمی اگر ایمان دار ہو، اُسے کہا جاتا ہے: “ایمان سے پیٹ نہیں بھرتا بھائی، آج کے زمانے میں ذرا عقل کے ناخن لو۔”افسوس صد افسوس!

اخلاق قصہ پارینہ ہو کر رہ گئے ہیں، وہ اب ایک قدیم گم گشتہ زمانے کی یاد دلاتے ہیں اور نئی نسل کو اخلاق سکھانا ،بس ایسا ہے جیسے برقی ڈاک کے دور میں زمینی ڈاک کے ذریعہ خط روانہ کیا جائے۔ “سچائی، ہمدردی، ایمانداری،شرافت اور پاسداری؟”۔ یہ الفاظ اب صرف درسگاہ کے زوردار نعرے بن کر رہ گئے ہیں، عملی زندگی میں ان کا کوئی استعمال نہیں اور انھیں بلند کرنے والے بیوقوف و احمق کہلاتے ہیں ۔

ایک استدعا ہے، جنہیں اب تک ضمیر کی جھنکار سنائی دیتی ہے، اُن کے لیے دعا فرمائیں ، یا وہ جلد “سمجھ دار و چالاک” بن جائیں اور یا پھر اُن کا دماغی علاج کروایا جائے، چونکہ حالیہ معاشرے میں دولتمند کی گڈی اڑانے میں “ضمیر کا مرنا” اشد ضروری ہے۔

ٹیپ کا بند بس یہی ہے، قوم کو پیسے کی خدائی پر فخر ہونا چاہیے،کیا یہ سامری کے سونے کی گائے نہیں، جسے موسی کی قوم پوجتا کرتی تھی اور شاید اسی دولت و سونے چاندی کے خدا نے،معاذ اللہ، ہمیں بھی ساری چیزوں سے نوازا ہے،دو نمبری کمائی، جعلی عزت و شہرت،خالی بیجان دل اور مکمل تباہی و بربادی ، یہ سب آسائش و تعیش کے مرتبان میں!

اس سے پہلے کہ تباہی و بربادی کا بگل بجے،ہم نیست و نابود کر دیئے جائیں ،ہمیں اپنا قبلہ سیدھا کر لینا چاہیئے اور رب العزت کی بارگاہ میں گڑگڑا کر، اپنی کوتاہیوں و غلطیوں پر اظہار ندامت و استغفار کرنے کی ضرورت ہے۔

منظر

☆☆☆

جہاں پیسے کو خدا کا درجہ دے دیا جائے

دنیا کی ترقی، آسائشوں اور سہولتوں نے انسان کو بہت کچھ عطا کیا ہے، لیکن ان نعمتوں کی چمک دمک نے انسان کو اپنے اصل مقصد، روحانی قدروں اور اخلاقی بنیادوں سے دور بھی کر دیا ہے۔ آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں ،جہاں پیسہ صرف ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ مقصد حیات بن چکا ہے اور اس رویے نے انسان کو تبدیل کر دیا، پیسہ اب خدا کی طرح پوجا جانے لگا ہے اور یہی لمحہ فکریہ ہے۔

جب کسی معاشرے میں دولت کو معیارِ عظمت بنا لیا جاتا ہے، تو وہاں انسان کا کردار، اخلاق اور ایمان سب کچھ ثانوی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ سچ اور جھوٹ کا فرق مٹنے لگتا ہے، حق و باطل کی پہچان دھندلا جاتی ہے، اور وہ لوگ جو اصولوں پر چلنے والے ہوتے ہیں، پسماندہ اور کمزور سمجھے جانے لگتے ہیں۔

ایسے ماحول میں ایمان بھی بکنے لگتا ہے۔ وہی انسان جو کبھی حق کی خاطر قربانیاں دینے کو تیار ہوتا تھا، اب معمولی فائدے کے لیے اپنے ضمیر کا سودا کر لیتا ہے۔ ملاوٹ، جھوٹ، دھوکہ دہی، رشوت، اور استحصال جیسی بیماریاں عام ہو جاتی ہیں۔ انسان اپنی قیمت خود لگاتا ہے اور مادّی فوائد کے لیے اپنی عزت، وفاداری، حتیٰ کہ اپنی روح کو بھی نیلام کر دیتا ہے۔

یہی وہ وقت ہوتا ہے جب معاشرہ اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہو جاتا ہے۔ رشتے صرف مفادات کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں، عدل صرف امیر کے لیے ہوتا ہے، اور غریب کی آواز دب جاتی ہے۔ والدین، اساتذہ، اور بزرگوں کا احترام مفقود ہو جاتا ہے، کیونکہ اب اصل عزت صرف دولت کی ہوتی ہے، چاہے وہ کسی بھی طریقے سے حاصل کی گئی ہو۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پیسہ ہی سب کچھ ہے؟ کیا انسان کی پہچان اس کی دولت ہونی چاہیے یا اس کا کردار، علم، اور اخلاق؟ تاریخ گواہ ہے کہ جن اقوام نے صرف مادّی ترقی کو اہمیت دی اور روحانی و اخلاقی قدروں کو نظر انداز کیا، وہ اندر سے کھوکھلی ہو گئیں اور بالآخر زوال کا شکار ہوئیں۔

لہٰذا، آج ہمیں ایک اجتماعی بیداری کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے دلوں میں یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ پیسہ صرف ایک ذریعہ ہے، مقصد نہیں۔ ایمان، اخلاق، اور انسانی قدریں ہی وہ خزانے ہیں جو انسان کو سچا، کامیاب اور باوقار بناتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ایک مضبوط، منصف، اور پرامن معاشرہ قائم ہو، تو ہمیں دولت کی پرستش سے نکل کر اخلاقی اصولوں کی پاسداری کرنی ہوگی۔