بچپن سے جوانی میں قدم رکھا،جوانی سے بڑھاپے کی سیڑھیاں چڑھے اور ہماری دروغ گوئ میں نہ کمی بیشی ہوئ اور نہ کوئ اتار چڑھاو آیا۔پہلے دیو مالائی کہانیوں میں عجب قسم کی مخلوق سے ملاقات کروائ گئ،پھر میر امن کی قصہ چہار درویش کی حیران کن داستانوں میں گم ہو گئے اور ان سے سنبھلے نہیں تھے،ابن صفی کی عمرانی دنیا نے اپنی گرفت میں لے کر،ہمارے گرد ایک طلسماتی حصار باندھ دیا۔

ہمارے بیشتر بزرگ مافوق الفطرت کہانیاں سنانے کے ماہرین میں شمار کیئے جاتے تھے،دیو،پری و جنات کے قصص اور ان کی بدہیبت شکل و صورت، ان کی زبان سے آگ کے شعلوں کی طرح نکلتے۔ننھے منھے بچوں کو وہ سہما دیتے،کوئ کمسن غلاف کے اندر چھپ کر عافیت تلاش کرتا،کوئ نادان اپنے عم زاد بہن بھائ کا ہاتھ پکڑ کر سکون پاتا اور کوئ ترنت سے بھاگ کر اپنے والدین کی گود میں محفوظ ہو جاتا۔قصہ مختصر ان اول فول کہانیوں کا نہ کوئ مقصد ہوتا،نہ ان سے کسی کی اصلاح ہوتی اور نہ ہی صراط مستقیم کا راستہ دکھائ دیتا۔اس کے برعکس ہماری دادی مرحومہ قرآن کی سچی کہانیاں سناتیں،جن کا منبہ و سرچشمہ نبی و رسول کی زندگی ہوتی اور ہر لفظ میں غور و فکر کی دعوت اور ہر عمل میں اصلاح کا پہلو مخفی ہوتا۔

ہمارا گھرانہ عرصہ دراز دہلی کی قدیم آبادی میں مسکن رہا،بزرگوار کاروباری حضرات تھے اور خدا ترس ہونے کے ناطے،خرافات کی جانب مائل نہ تھے۔جوئے و شراب کی محفلوں سے اجتناب،ناچ گانے کے کوٹھوں کو بے رونق  اور مساجد کو آباد کرنے میں فخر محسوس کرتے اور یہی ان کا وطیرہ تھا۔ان سب قابل ذکر معمولات کے ساتھ ساتھ،بیشتر شکاری بھی تھے اور جانوروں کے شکار کے قصے بڑھ چڑھ کر سنایا کرتے۔جب بات کافی آگے نکل جاتی،سامعین میں سے کوئ نہ کوئ جرآت کر کے نوالہ دیتے،قبلہ کچھ کمی و تخفیف کر لیں ورنہ دو نمبری کا شبہ ہو گا اور بزرگ اسے قہر  آلود نظروں سے گھورتے،بیچارا ڈر کے مارے دوسرے حضرات کے پیچھے پناہ لیتا۔

ایک بزرگ پہاڑوں پر چلا کھینچا کرتے،ہفتہ ہفتہ غائب ہو جاتے اور کھانے کے لیئے صرف چنے کے دانوں پر اکتفا کرتے اور چشمہ سے پانی پیتے۔کبھی کوئ بھولا بھٹکا شیر ان کا راستہ روکتا،وہ غیض و غضب سے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے اور وہ ان کی بہادری و دلیری کا قائل ہو کر،مجبورا وہ اپنا ہی راستہ تبدل کر لیتا۔کسی دن ایک لمبا چوڑا اژدھا پگڈنڈی پر پاتے،اپنی چھڑی سے اس کو اشارہ کرتے اور وہ سدھارے جانور کی طرح، اپنی راہ لینے میں ہی عافیت سمجھتا۔ہم ان کہانیوں کو سن کر پلے بڑھے،بچپن میں ان پر من و وعن یقین ایمان کا حصہ گردانا اور پھر کون بدبخت بزرگ کی کہانی کی صداقت سے انکار کر کے، اپنی موت کو دعوت دیتا۔دہلی کی یادیں آہستہ آہستہ معدوم ہونے لگیں،بزرگوں کی پیڑی رخصت ہوتی گئ اور ہماری عمر بھی بیت گئ،لہذا ان کہانیوں پر سے اعتبار و اعتقاد رفو چکر ہو گیا۔

اب دوسری نسل کی باری آئ،وہ دہلی کی حسین و جمیل یادوں کو دلوں میں سجائے  تھے اور اپنے آبا واجداد کی ریت و روایات کے پیروکار نکلے۔کاروباری مصروفیات سے جب بھی فراغت پائ،شکار کا قصد کر کے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے اور جنگلات و بیابانوں میں ڈیرے ڈال دیئے۔ایک بزرگ ہرن مارنے نکلے،کئ دن ایک غول کا پیچھا کیا اور ایک پہاڑی کے دامن میں ان کو نرغے میں لے لیا۔دو نالی بندوق میں گولیاں بھرنے سے پہلے،اس کی نالوں کی صفائ کا معائنہ ہوا اور پھر ہرن کو نال کی سرشت پر لے آئے۔یکایک ہرنوں کے کان کھڑے ہو گئے،ان کو شاید ہوا کے دوش شکاری کی بو پہنچ گئ اور انھوں نے جیسے ہی جست لگائ،ان کی بندوق سے گولی نکلی،جو ان کا تعاقب کرنے لگی ۔چند لمحات کے توقف کے بعد دو ہرن چت گر گئے،قریب جا کر دیکھا،گولی ایک کے جسم سے نکل کر دوسرے کے سر میں پیوست ہوگئ تھی اور وہ دونوں وہیں ڈھیر ہو گئے۔سامعین کہانی سن کر ششدر تھے،یا اللہ یہ کون سی طاقتور گولی تھی اور اس نے کیسے دو جانور ڈھیر کر دیئے۔کسی منچلے نے یہی سوال داغ دیا،شکاری آگ بگولا ہو گئے اور اپنی کہانی کی صداقت پر سوال اٹھانے والے کو رسوائ کا مرتکب قرار دیا، محفل ہنگامے کی نظر ہو گئ۔

ان کے ساتھی پرندوں کے شکاری تھے،

مرغابیوں کا غول اڑا چلا آ رہا تھا اور یہ جھیل میں اونچی مچان پر بیٹھے تھے۔دو نالی بندوق میں کارتوس بھرے،ہوا میں اڑان کرتی مرغابیوں کا نشانہ لیا اور بندوق داغ دی،یکدم چار پانچ پرندے پھڑپھڑاتے ہوئے گرے۔انھوں نے نعرہ بلند کیا،دوستوں نے واہ واہ کی اور جواں مرد لڑکوں نے جھیل میں چھلانگ لگا کر ،ان مرغابیوں کو اٹھا لیا۔ابھی کہانی اپنے منتقی انجام کو نہ پہنچی تھی،کسی نے پیچھے سے ٹہوکہ دیا،کچھ مرغابیوں کی مقدار کم کر لیں اور یہ سنتے ہی وہ چراغ پا ہو کر ہتھے سے اکھڑ گئے،ایسا لگا مرغیوں کے درمیان لومڑی چھوڑ دی گئ۔

ہمارے خاندان میں چند مچھلی پکڑنے والے بھی ہیں،یہ حضرات سمندری و دریائ مچھلیوں کے شیدائ ہیں اور کئ کئ دن ڈورے ڈالے کھڑے رہتے ہیں۔ایک دن کشتی میں سوار تھے،ڈور پانی میں لہرا رہی تھی اور یکایک اس میں جنبش ہوئ۔جس آبی مخلوق نے ان کے کانٹے کو نگلا تھا،وہ خاصی طاقتور تھی اور ڈور کھینچنا مشکل ہو رہا تھا۔ دو تین افراد نے مل کر، اسے قابو کرنے کی کوشش کی اور جب وہ بڑی تین چار گز کی مچھلی کشتی کے قریب آگئ،اس نے ڈور توڑ کر راہ فرار اختیار کر لی۔سامعین کہاں نچلے بیٹھنے والے تھے،کسی نے اس کی طاقت پر جملہ کسا اور کوئ اس کی لمبائ پر فقرے چست کرنے لگا،الغرض کسی کو یقین نہ آیا۔ہمارے مچھلی کے شکاری جز بز ہو رہے تھے،وہ اپنی شکاری داستان پر نکتی چینی برداشت کرنے کے قائل نہ تھے اور حاضرین ان کی زبانی گوشمالی کر کے ،یقینا 

لطف اندوز ہو رہے تھے۔   

دروغ گوئ شکاری قصوں تک محدود نہیں،

کوئ تعلیمی اسناد کو بڑھ چڑھ کر سناتا ہے اور کوئ اپنے محققانہ مقالوں کو آسمان تک پہنچا دیتا ہے۔کوئ جعلی طبیب بن جاتا ہے،کوئ نقلی عالم دین کا روپ دھارتا ہے اور کوئ دوسروں کے ادب پر نقب زنی کر کے،ان شہ پاروں کو اپنی کاوش قرار دیتا ہے۔کاروباری حضرات لاکھوں کو کروڑوں میں بدلتے ہیں،دکانوں کی ساکھ و مالیت کا بھی یہی حساب ہے اور زبانی جمع خرچ کے ماہرین میں شمار کیئے جاتے ہیں۔

سیاستدانوں کا کون مقابلہ کر سکتا ہے،وہ کہاں کسی سے پیچھے رہنے والے ہیں اور ان کے وعدے وعید بے مثال ہوتے ہیں۔وہ چاند ستارے قدموں میں لا کر رکھنے کی باتیں کرتے ہیں،پر زمینی مشکلات کو حل کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں اور وعدوں کو توڑنے کے باوجود یہ بے شرم ،معذرت کے چند کلمات نہیں ادا کرتے۔

ہمارے گھرانوں میں بھی اب یہ ریت روا ہو گئ ہے،کوئ ضرورت مند محلہ دار باہر دستک دے اور بچوں سے کہلوا دیا جاتا ہے،کوئ بزرگ گھر پہ نہیں،یہ دروغ گوئ کی بنیاد اور تربیت ہے۔کسی بات میں سچائ کی بو نہیں آتی،ایک دوسرے کے ساتھ معاشی معاملات میں جھوٹ و سچ کی آمیزش ہے اور پھر دعاوں کی قبولیت کا مولا سے گلا کرتے ہیں۔بڑھ چڑھ کر آمدن واخراجات بتانا،سفری معمولات کو حد سے تجاوز کرانا،درسگاہوں کے تعلیمی اخراجات کی لمبی فہرستیں پیش کرنا۔

الغرض معاشرہ دروغ گوئ کی حدود پار کر چکا ہے،زندگی کے ہر شعبہ جات میں اس کی بساند و بو سونگھی جا سکتی ہے اور جو ڈینگیں تفریح طبع سے شروع ہوئیں ،اب وہ بیماری کے روگ کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ریاکاری و دروغ گوئ کا چولی دامن کا ساتھ ہے،ایک پر قابو پانے سے دونوں پر قدغن لگ سکتی ہے،سوال یہ ہے کیا ہم اس کو گھمبیر مسئلہ سمجھتے ہیں اور گر جواب مثبت میں ہے،پھر اس کے ادراک و اسباب کی روک تھام کی کاوش و سعی شروع ہونی چاہیئے۔